Yar ko ham ne ja-bja dekha - Abida Parveen(Raqs-e-Bismil)

Lyrics: Hazarat Shah Niaz
Vocalist: Abida Parveen
Music: Muzaffar Ali
Album Raqs e Bismil-Dance of the wounded
First part of this kalam is in Farsi language, there is some mistake in last line of Farsi part. i have tried to do my best to give correct wording and explanation. if there is something wrong please let me know.
---------------------------------------------
manum-maa nayaz-mandi ke be to nayyaazdaara
I am needful person, who needs you

gham-e-choon to naaz-nini behzaar naaz-dara
I will take for granted very dearly the sorrow of a beloved like you

tuu-e- afataab, chashman wa jamaal tust roshan
You are the sun; my eye is alight with your beauty

agar ast-o-baazgeeram be ke chashm e aaz-daaram
if I giveup you , to whom I ll go


yaar ko humne ja-ba-ja dekha
kahin zahir kahin chhupa dekha
kahin mumkin hoa kahin wajib
kahin fani kahin baqa dekha
yaar ko humne ja-ba-ja dekha
kahin zahir kahin chupa dekha

kahien woh baadshaah-e-takht nasheen
kahin kaasa liye gadaa dekha
yaar ko humne ja-ba-ja dekha
kahin zahir kahin chupa dekha
kahin wo der libaas-e-mashokan
bar-sare naaz aur aada dekha
kahin zahir jahin chupa dekha
yaar ko humne ja-ba-ja dekha

kahin aashiq niyaz ki soorat
seena Girya-o-dil jala dekha
yaar ko humne ja-ba-ja dekha
kahin zahir kahin chupa dekha
yaar ko humne ja-ba-ja dekha
muaazkhan یہ جواب میں نے
کی دی گئی رائے پہ دیا ہے۔ مگر ترتیب کچھ عجیب سی ہو گئی ہے۔ سو اس جواب کو یہاں بھی دیکھا جا سکتا ہے

محترم معاذ
اگر کوئی چیز آپکی سمجھ سے باہر ہے تو اس میں اس شئے کا کوئی قصور نہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ آپ احادیث کو مانتے ہیں یا نہیں۔ لیکن یہ حدیث قدسی امام بخاری اور امام احمد بن حنبل اور بیہقی نے بیان کی ہے۔جسکا ایک حصہ یوں ہے
جب میں اس سے اپنے بندے محبت کرنے لگوں تو اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا اور میں اس کا آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اس کا قدم بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے
ایک اور حدیث ہے کہ روز محشر اللہ تعالی ایک بندے کو کہیں گے کہ میں بھوکے پیٹ تیرے در پر آیا لیکن تم نے مجھے دھتکار دیا۔ اس پر وہ شخص کہے گا کہ اے باری تعالی تو تو ان چیزوں سے بےنیاز ہے۔ جس پر اللہ تعالی اسے کہیں گے فلاں وقت جو پھٹے پرانے کپڑوں میں آیا تھا وہ میں ہی تو تھا۔
یہ سب کس کے بارے میں ہے؟ بندہ مومن کے۔ اب سچے مومن کا ہر عمل اللہ کی رضا سے ہو تو خدا ہر کام میں اسکا شریک کار ہوتا ہے۔علامہ اقبال صاحب نے اس کو یوں بیان کیا ہے
ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ۔
یہ مضمون تمام صوفیا کے ہاں ملتا ہے۔ مولانا رومی لکھتے ہیں
ہر دم بہ لباس دگر آن یار برآمد- گه پير و جوان شد
بات صرف سمجھنے کی ہے۔ میں بحث نہیں کروں گا صرف ایک نقطہ نظر بیان کر رہا ہوں۔ ورنہ تو لوگ خدا سے ہی انکاری ہیں۔ آپ انکو بھی قائل نہیں کر سکتے

۔ اس کے علاوہ قران میں اللہ فرماتے ہیں
ہم تمہاری شہ رگ سے بھی قریب ہیں
تو بندہ پرور اب آپ ڈھونڈتے رہیے اللہ کو لیکن اللہ نے انسان کے دل میں سمانے کا کہہ کر شاید انسان کو یہی باور کروایا ہے کہ جب ایک انسان تمہارے کام آتا ہے تو تم اس کے زیر نگیں نہیں بلکہ یہ اللہ ہی ہے جس نے اس سے تمہارا کام لیا۔ ہاں دیکھنے والی آنکھ کا فرق ہو سکتا ہے۔
ویسے بھی اللہ تعالی اپنی علامات کا ظہور کرتے ہیں خود سامنے آ کے نہِیں کہیں گے۔۔لو بھئی میں آ گیا۔ اور مومن کا ہر عمل خدا کی رضا کا عملی ظہور ہی تو ہے۔ سو آپکی مرضی آپ ان سے خدا کی حقانیت کو مان لیں یا مزید کی تلاش کریں۔ جہاں تک اس کلام کی بات ہے تو یہ شاعری ہے اس میں مثالیں دی ہیں۔۔ اور مثال مانند مثل کے نہیں ہوتی ۔میں نے اپنی ناقص عقل کے مطابق وضاحت کی کوشش کی ہے۔ آگے اللہ بہتر جانتا ہے۔ ہم تو ماننے والے ہیں
كافر بود آن كس كه به انكار برآمد
:)